ذکر بالجہر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بلند آواز کے ساتھ دعا و تسبیح۔ "قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکرِ بالجہر کو بھی اور ذکر بالاخفاء کو بھی۔"      ( ١٩١١ء، القرآن العظیم تفسیر مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ذِکْر کو حرفِ جار 'ب' اور حرفِ تخصیص ال کے ذریعے عربی ہی سے مشتق اسم 'جہر' کے ساتھ ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩١١ء کو "القرآن العظیم (تفسیر مولانا نعیم الدین)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بلند آواز کے ساتھ دعا و تسبیح۔ "قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکرِ بالجہر کو بھی اور ذکر بالاخفاء کو بھی۔"      ( ١٩١١ء، القرآن العظیم تفسیر مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٣٨ )

جنس: مذکر